ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آدھار کو لازم نہیں بنا سکتے ، صرف پین سے بھی بھر سکتے ہیں آئی ٹی ریٹرن :سپریم کورٹ 

آدھار کو لازم نہیں بنا سکتے ، صرف پین سے بھی بھر سکتے ہیں آئی ٹی ریٹرن :سپریم کورٹ 

Sat, 10 Jun 2017 12:47:32    S.O. News Service

نئی دہلی، 9؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )آدھار کارڈ کے معاملے پر جمعہ کو سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے پاس پین کارڈ اور آدھار کارڈ دونوں ہیں ،انہیں اپنا آئی ٹی ریٹرن بھرتے ہوئے یہ بتانا ہوگا۔وہیں جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے، اور پین کارڈ ہے ،ان کا پین درست تصور کیا جائے گااور وہ لوگ آئی ٹی ریٹرن بھر سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو آدھار کارڈ کی سیکورٹی کو یقینی بنانا چاہیے ، تاکہ آدھار کا ڈیٹا لیک نہ ہو سکے۔وہیں حکومت کو پین کارڈ کے ڈپلیکیشن کو روکنے کے لیے بھی قدم اٹھاناچاہیے ۔اس سے پہلے گزشتہ سماعت میں مرکزی حکومت نے آدھار کارڈ کے معاملے پر سپریم کورٹ سے کہا کہ ہندوستان کے شہری آدھار کارڈ کے لیے لئے جانے والے جسمانی نمونے سے انکار نہیں کر سکتے ہیں، شہری اپنے جسم پر اس معاملے پر کوئی حق نہیں جتا سکتے ہیں۔مکل روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے جسم پر مکمل حق ہونا ایک وہم ہے، ایسے کئی قوانین ہیں جو اس پر پابندی لگاتے ہیں۔مرکزی حکومت نے پین کارڈ کے لیے آدھار کارڈ کو لازمی بنانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں کہا کہ ایسا ملک میں فرضی پین کارڈ کے استعمال کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کی پنچ سے کہا کہ پین کا پروگرام مشتبہ ہونے لگا تھا ،کیونکہ یہ فرضی بھی ہو سکتا تھا ،جبکہ آدھار مکمل طور پر محفوظ اور مضبوط نظام ہے جس کے ذریعے ایک شخص کی شناخت کو فرضی نہیں بنایا جا سکتا تھا۔روہتگی نے کہا کہ آدھار کی وجہ سے حکومت نے غریبوں کے فائدے کی اسکیموں اور پنشن سکیم کے لیے 50ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریبا دس لاکھ پین کارڈ منسوخ کئے جا چکے ہیں جبکہ 113.7کروڑ آدھار کارڈ جاری کئے گئے ہیں لیکن حکومت کے علم میں ابھی تک اس کے فرضی ہونے کا کوئی معاملہ نہیں آیا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا تھا کہ آدھار کارڈ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈ مہیا کرانے کے مسئلہ اور بلیک منی کی گردش کو روکنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔عدالت انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 139اے اے کی قانونی موزونیت کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے، یہ دفعہ نئے بجٹ اور مالیاتی قانون 2017میں لاگو کی گئی ہے۔


Share: